کیا اس سال سیلاب آئے گا؟

سنہ2017 کی ایک عالمی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے شدیدمتا ثر ہونے والے  ملکوں میں بنگلہ دیش پہلے  پاکستان     16ویں جبکہ  چین 49 ویں نمبرپر ہے اور ناروے سب سے کم متاثرہ ہونے کی وجہ سے 170 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان ان شدید  موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ   سےسیلاب، خشک سالی، زلزلوں جیسی قدرتی آفات کی زد میں رہتا ہے۔  پاکستان میں سیلاب کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ وفاقی سیلابی ادارے  کی ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے 68 سالوںمیں  سیلاب سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ تقریبا 38 بلین ڈالر ہے   جبکہ اسی رقم سے 3 دیامیر بھاشا ڈیم تعمیر کیے جاسکتے ہیں۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں 1952، 1973، 1976، 1978، 1988، 1992، 1997 اور 2010 کے سیلاب شدید ترین نوعیت کے تھے۔  صرف 2010 کے سیلاب سے 2000 اموات واقع ہوئی  اور 0.16 ملین زرخیز زمین زیر آب آ گئی۔ پاکستان میں کل سیلابی نقصان کا 42 فیصد 210-2015 کے دوران وقوع پزیر ہونے والے سیلابوں  کی کارستانی ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک محتاط اندازے کے مطابق 2010 کے سیلاب میں 18 ملین افراد متاثر ہوئے جس میں آبادی کے لحاظ سے صوبہ سندھ اور اموات کے لحاظ سے  صوبہ خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

Flood 2010

سنہ 2017 میں پاکستان میں مون سون سے سیلاب کے خطرے کی جانچ کیلئے پاکستان کے موسمیاتی ادارے کی 14 جون2017 کو شائع ہونے والی رپورٹ کا جائزہ از حد ضروری ہے۔ اس موسمی پیش گوئی کی رپورٹ کے مطابق   اس سال پاکستان میں مون سون بارشیں جولائی میں نارمل ہوں گی اور اگست اور ستمبر میں یہ نارمل سے بھی کم ہوں گی۔پاکستان کے جنوبی علاقوں میں بارش کی کمی کی وجہ سے خشک سالی کا بھی خطرہ  ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی امکاں ہے کی پہاڑی اور نیم  پہاڑی علاقوں میں سیلابی ریلوں کے خطرات موجود رہیں۔

سیلاب کی صورتحال کی عکاسی کے لیئے  پاکستان میں موجود دریاوں کے خدوخال کی وضاحت ضروری ہے۔ پاکستان میں سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے صرف دو ڈیم  تربیلا اور منگلا ہیں جن میں ایک خاص حد تک پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے،  جبکہ باقی تین دریاوں ستلج، راوی اور چناب پر کوئی پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت میسر نہیں ہے۔ سیلابی پانی سے آبادی کو بچانے کیلئےدریاوں کے ساتھ سیلابی پشتے تعمیر کیے جاتے ہیں اور ان پشتوں کے اندرونی علاقے بیٹ یا کچا کے علاقے کہلاتے ہیں جہان مستقل تعمیرات کی اجازت نہی۔ان علاقوں میں مون سون کے دنوں میں عموماٰ ان علاقوں سیلابی پانی آسانی سے داخل ہو جاتا ہے اور وہاں کے رہائشی اس موسم میں نقل مکانی کے عادی ہیں۔ سیلابی صورتحال اس وقت گھمبیر ہو جاتی ہے جب پانی ان پشتوں سے باہر نقل کر آبادی اور زرخیز زمینوں میں داخل ہوتاہے اور جانی ومالی نقصان کا باعث بنتا ہے۔

اگر چہ محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی کو مد نظر رکھا جائے تو اس سال سیلاب کے امکانات کم ہیں،  تاہم مون سون کے غیر معمولی برتاو کی وجہ سے سیلاب کے خطرہ کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔  اس کی ایک وجہ  یہ  ہے کہ مون سون کی بارشیں کسی ایک وقت میں کم اور دوسرے وقت میں زیادہ ہوں اور بحیثیت مجموعی ان کا    رویہ نارمل ہو۔اسی ضمن میں اگر 2010 کے سیلاب کی صورتحال کو مد نظر رکھا جائے تو مندرجہ ذیل حقیقت واضح ہوتی ہے: جولائی 2010 میں شمالی علاقہ جات میں نارمل سے چار گنا زیادہ بارشیں ہوئیں اور ان بارشوں کی شدت 36 گھنٹوں میں 300 ملی میٹر تک ریکارڈ کی  گئی۔ایک قلیل وقت میں اتنی زیادہ مقدار میں پانی کو سنبھالے کی استعداد  اور سکت ہماری انتظامی مشینری میں نہیں تھی جس کا نتیجہ 2010 کے سیلاب کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اقوام متحدہ نے 2010 کے سیلاب کو  موجودہ تاریخ کا بدترین انسانی بحران قرار دیا اور اس وقت سیکریٹری بان کی مون بذات خود پاکستان میں صورتحال کا جا ئزہ لینےکیلئے تشریف لائے۔ موجودہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ کی قیادت میں2010 میں بننے والے سیلابی کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سیلاب سے نمٹنے کیلے متعلقہ محکموں کےپاس  نہ ہی درکار استعداد تھی اور  نہ ہی منظم فیصلہ سازی کی صلاحیت تھی۔ اس کے علاوہ   سرکاری اہل کاروں  کی غفلت اور سیلابی پشتوں کی  غیر مناسب دیکھ بھال اور تعمیر میں ناقص مواد کا استعمال بڑی تباہی کا باعث بنے۔

سیلاب سے نمٹنے کیلے ضروری ہے  ملک میں نئے ڈیم تعمیر کیے جائیں، اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے، سیلابی پشتوں کی مناسب دیکھ بھال کا  شفاف نظام وضع کیا جائے اور جدید مہارتوں کے استعمال سے نقصانات کو کم سے کم سطح پر لایا جائے۔

Advertisements
This entry was posted in Uncategorized and tagged on by .

About Muhammad Sheraz Ahsan

M. Sheraz Ahsan has more than 10 years of geospatial industry experience. He is graduate of NUST and University of the Punjab. He is fellow of Royal Geographical Society, London, UK. He is member of Pak-NSDI working group and OSGeo (Pakistan Chapter). He is serving as visiting faculty member of PMAS-AAUR and IST. His research interest include RS/GIS application in resourc planning and management. He is actively promoting the geospatial education and industry in Pakistan

4 thoughts on “کیا اس سال سیلاب آئے گا؟

  1. Muhammad Sheraz Ahsan Post author

    Its very encouraging Hamaad for having such a nice comments from researcher like you..

    Reply

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s