Author Archives: Muhammad Sheraz Ahsan

About Muhammad Sheraz Ahsan

M. Sheraz Ahsan has more than 10 years of geospatial industry experience. He is graduate of NUST and University of the Punjab. He is fellow of Royal Geographical Society, London, UK. He is member of Pak-NSDI working group and OSGeo (Pakistan Chapter). He is serving as visiting faculty member of PMAS-AAUR and IST. His research interest include RS/GIS application in resourc planning and management. He is actively promoting the geospatial education and industry in Pakistan

خلائی ترقی: ملکی استحکام کےلیے ضروری

اپریل 1986 میں پاکستان کے جاوید میاں داد نے شارجہ کپ فائنل میں 116 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ یہ میچ اس وقت دلچسپ موڑ پر آن پہنچا تھا کہ جب میچ کی آخری گیند پر چار رنز درکار تھے اور میاں داد نے چھکا لگا کر ہندوستان کو شکست فاش دی۔ جب اس منظر کو پہلی بار براہ راست ہمارے گاؤں کی اکلوتی ٹیلی ویژن اسکرین پر براہ راست دیکھا گیا تو لوگوں کی خوشی کے بجائے حیرت دیدنی تھی۔ گاؤں میں پہلی بار ریڈیو پر کمنٹری کے دوران سنی جانے والی گیند کی ’’ٹک‘‘ کی آواز کے ساتھ ساتھ حرکت کرتے کھلاڑیوں کو بھی دیکھا گیا۔ ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ خلاء میں موجود مصنوعی سیارچے نے برقناطیسیلہروں کی مدد سے یہ منظر سیکڑوں میل دور دراز کے گاؤں کی ٹیلی ویژن اسکرین تک پہنچایا۔

Picture Express PK

پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے اب تک ہندوستان نے اسے دل سے تسلیم نہیں کیا اور اس ازلی مخامصت کی وجہ سے نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان کئی جنگیں بھی ہوچکی ہیں بلکہ آئے روز سرحد پر گولہ باری بھی جاری رہتی ہے۔ ہندوستان نے پاکستان اور ہمسایہ ممالک پر دھونس جمانے اور اپنی اجارہ داری قائم کرنے کےلیے سائنس اور ٹیکنالوجی، خاص کر خلائی ترقی پر بہت توجہ دی ہے۔ آئیے میں آپ کو پاکستان اور ہندوستان کی خلائی دوڑ کا کچھ احوال سناتا ہوں۔

پاکستان کا خلائی تحقیقی ادارہ ’’سپارکو‘‘ 1961 میں قائم ہوا اور تقریبا 57 سال گزرنے کے بعد بھی اس کے پاس صرف ایک مصنوعی سیارچہ ہے جو صرف مواصلات سے متعلقہ امور سر انجام دیتا ہے۔ گزشتہ ماہ دو مزید سیارچے بھی چین کی مدد سے خلاء میں بھیجے گئے ہیں جبکہ ہندوستان کا خلائی تحقیقی ادارہ اس سے عمر میں ایک سال چھوٹا ہے مگر خلاء میں اس کے تقریباً 36 مصنوعی سیارچے محوِ گردش ہیں جو زمینی و خلائی مشاہدات، موسمیات و مواصلاتی رابطے اور زمیں پر جگہ کے درست تعین جیسے اہم امور کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔

پاکستان نے ملک میں تیار کردہ پہلا خلائی سیارچہ بدر اوّل 1990 میں، چین نے اپنا اوّلین سیارچہ ’’ڈونگ فینگ ہانگ ون‘‘ 1970 میں جبکہ ہندوستان نے ’’آریہ بھٹا‘‘ نامی اپنا پہلا سیارچہ 1975 میں خلاء میں بھیجا۔ چین اپنی سرزمین سے خلاء میں تقر یباً 280 مشن خلاء میں بھیج چکا ہے جبکہ ہندوستان نے اب تک 164 مشن بھیجے ہیں۔ پاکستان اس دوڑ میں کہیں پیچھے ہے۔ ہندوستان کے کل 88 سیارچے، چین کے 300 سے زائد، امریکہ کے 1600 سے زائد سیارچے زمین کے مدار میں بھیجے گئے ہیں۔ امریکہ اور روس کی طرح اب ہندوستان اور چین بھی اپنے مشن کامیابی سے چاند پر بھیج چکے ہیں، بلکہ ہندوستان تو انتہائی کم لاگت سے مریخ پر بھی اپنا مشن ’’منگلیان‘‘ بھیجنے میں کامیاب ہوا ہے۔ چین تو اپنا ایک خلاء نورد بھی کامیابی سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اتار چکا ہے۔

پاکستان نے ملکی ساختہ تجرباتی سیارچہ بدر اوّل 1990 میں جبکہ بدر بی 2001 میں خلاء میں بھیجے ہیں۔ دونوں سیارچے ہی خاطر خواہ نتائج فراہم نہیں کرسکے اور کچھ عرصے بعد ہی خلاء کی وسعتوں میں گم ہوگئے۔ تعلیمی ادارہ برائے خلائی ٹیکنالوجی کے اساتذہ اور طلبا نے ’’آئی کیوب‘‘ نامی چھوٹا تجرباتی خلائی سیارچہ (تقریباً 1 کلوگرام وزنی) 2013 میں کامیابی سے نچلے خلائی مدار میں بھیجا جو صرف ایک مخصوص پیغام نشر کرتا ہے، جسے وی ایچ ایف کی مخصوص فریکوئنسی (تعدّد) پر سنا جاتا رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان نے چین کے تعاون سے ’’پی آر ایس ایس ون‘‘ (1200 کلوگرام) اور ’’پاک سیٹ ون‘‘ (285 کلوگرام) نامی دو خلائی سیارچے نچلے مدار میں بھیجے ہیں جن میں سے ایک خاص طور پر پاکستانی سائنسدانوں نے اپنے وسائل سے تیار کیا ہے۔ ان سیارچوں کو زمینی مشاہدات، بالخصوص قدرتی آفات، سی پیک، ماحولیات، نقشہ سازی، زراعت اور منصوبہ بندی جیسے مختلف اہم قومی اُمور کی بجا آوری میں استعمال کیا جاسکے گا۔

یہ منصوبہ پاکستان میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے پاکستانی ماہرین، منصوبہ سازوں اور سائنسدانوں کی استعداد میں اضافہ ہوگا اور ملکی ساختہ سیاروں سے حاصل شدہ مستند، کم خرچ اور تیز ترین معلومات تک رسائی ممکن ہوسکے گی۔ پاکستانی خلائی ادارہ سپارکو اور ملکی ماہرین اس سے قبل کلیدی طور پر فرانس کے سیارچے ’’اسپاٹ‘‘ اور بعض امریکی سیارچوں پر انحصار کرتے تھے جس سے کثیر زر مبادلہ بیرون ملک صرف ہوجاتا تھا اور دوسروں کی محتاجی الگ سے تھی۔

ہندوستانی افواج کو زمینی مشاہدات اور دشمن پر نظر رکھنے کےلیے ملکی ساختہ 13 مصنوعی سیارچوں کی مدد حاصل ہے جبکہ پاکستانی افواج کے پاس اس معیار کا ایک بھی سیارچہ موجود نہیں۔ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات کےلیے فرانس کے مصنوعی سیارچے پر انحصار کرتا رہا ہے جبکہ یہ سیارچہ بھی ہندوستان کے لانچنگ راکٹ سے خلاء میں بھیجا گیا تھا۔ ہندوستان کا سیارچہ ’’کارٹو سیٹ‘‘ 2005 سے ہمسایہ ممالک کی سر زمین پر موجود ایک میٹر سے بھی چھوٹی جسامت والی چیزوں کو بہ آسانی دیکھ رہا ہے اور یوں ہندوستان اپنے پڑوسیوں کی مسلسل جاسوسی کرنے میں مصروف ہے۔ بات صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ ہندوستان کسی بھی ملک کے سیارچے کو خلاء ہی میں تباہ کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرچکا ہے۔

ہندوستان نے نہ صرف اپنے سیارچے بلکہ اپنے لانچنگ راکٹ سے 28 ملکوں کے تقریباً 237 مصنوعی سیارچے خلاء میں بھیجے ہیں۔ ہندوستان پر انحصار کرنے والے ممالک میں امریکا، برطانیہ، فرانس، جاپان اور کینیڈا کے علاوہ اور بہت سے ممالک شامل ہیں۔ فروری 2017 میں ہندوستانی خلائی ادارے نے اپنے ایک ہی لانچنگ راکٹ سے 104 مصنوعی سیارچے خلاء میں بھیج کر ایک ریکارڈ قائم کیا تھا۔ ہمارا دوسرا بڑا ہمسایہ ملک چین اس دوڑ میں ہم سے کہیں آگے ہے۔

  سنہ 2000 سے قبل اندرونِ ملک اور بیرونی دنیا میں ٹیلی ویژن نشریات کےلیے پاکستان میں صرف ایک ہی سرکاری چینل تھا جو خبروں، معلومات اور سماجی مسائل میں ہندوستان کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ نہیں کر پارہا تھا۔ لہذا 2003 میں پاکستان نے پاک سیٹ ون نامی نشریاتی سیارچہ امریکی کمپنی ’’بوئنگ‘‘ سے ٹھیکے پر لے کر ملک میں ٹیلی وائزڈ میڈیا انڈسٹری کی بنیاد رکھی۔ 2011 میں ٹھیکے والے سیارچے کی جگہ پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر اپنا سیارچہ ’’پاک سیٹ ون آر‘‘ خلاء میں بھیجا جس کی مدد سے اب ڈان نیوز، جیو، سماء اور پی ٹی وی کے علاوہ 68 دیگرچینل اپنی نشریات ملک کے طول و عرض میں بیرون ممالک نشر کررہے ہیں۔

’’ڈائریکٹ ٹو ہوم‘‘ ایک ایسی تکنیک ہے جس میں نشریاتی سیارچہ ٹیلی ویژن کی نشریات ایک ڈش انٹینا کے ذریعے گھر گھر پہنچاتا ہے۔ ڈائریکٹ ٹو ہوم تکنیک میں ہر ماہ موبائل فون کی طرح کارڈ لوڈ کرنا پڑتا ہے۔ ہندوستان کے خلائی سیارچے اس تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے دور دراز علاقوں میں اپنی ٹیلی ویژن نشریات پہنچا رہے ہیں جس کے عوض نہ صرف وہ قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہیں بلکہ اپنے ملک کی ثقافت اور منفی پروپیگنڈا بھی سادہ لوح پاکستانی عوام تک بہ آسانی پہنچا رہا ہے۔ حالانکہ اس تکنیک کےلیے پاکستان کے پاس اپنا مصنوعی سیارچہ اور باقی ضروری ساز و سامان موجود ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے 2016 سے 3 کمپنیوں کو تقریباً 15 ارب روپے کے عوض اس کام کا لائسنس بھی جاری کر رکھا ہے مگر بدقسمتی سے دو سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان میں ڈائریکٹ ٹو ہوم کی سہولت میسر نہیں آسکی ہے۔

خلاء سے زمین پر جگہ کے تعین کا نظام گاڑیوں، ہوائی جہازوں اور عوام الناس کو اپنی منزل تک رسائی کےلیے ٹھیک ٹھیک معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے دشمن کے اہداف کو بھی درست نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے امریکا نے بغیر پائلٹ کے طیاروں (یو اے ویز/ ڈرونز) کا استعمال کرکے کئی ناممکن اہداف حاصل کیے ہیں۔ ہندوستان کے پاس اس نظام کےلیے مختص آٹھ سیارچے ہیں جن سے وہ بنیادی طور پر فضائی نقل و حرکت (ایئر ٹریفک) اور دفاعی امور کی دیکھ بھال کرتا ہے جبکہ پاکستان نے حال ہی میں امریکی نظام کو چھوڑ کر چین کے ’’بیڈو‘‘ نامی نظام کو اس مقصد کےلیے اپنالیا ہے۔

پاکستان 1960 کی دہائی میں ایشیا کے تین اور دنیا کے ان دس ممالک کی فہرست میں شامل تھا جنہوں نے کامیابی سے اپنے راکٹ خلاء میں بھیجے تھے۔ پاکستان نے یہ کامیابی ’’رہبر اوّل‘‘ نامی صوتی راکٹ (ساؤنڈنگ راکٹ) کو خلاء میں بھیج کر حاصل کی تھی۔ پاکستان کے پاس شاہین، غوری، نصر اور ابابیل کی صورت میں دنیا کی بہترین میزائل ٹیکنالوجی موجود ہے جسے تھوڑی سی تبدیلیوں کے بعد لانچنگ راکٹ کی صورت میں خلاء کی وسعتوں کو مسخر کرنے کےلیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح نہ صرف پاکستان کا بیرونی دنیا پر انحصار کم ہو گا بلکہ اس سے کثیر زرمبادلہ بھی کمایا جاسکتا ہے۔

ہندوستان نے اپنا خلائی پروگرام روس کی مدد سے شروع کیا تھا لیکن مناسب حکمت عملی اور توجہ کی بدولت آج ہندوستان روس سے بھی کہیں آگے نکل رہا ہے۔ پاکستان کو بھی اپنی خلائی ترقی کےلیے صرف چین پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے ملک کے سائنسدانوں اور انجینئروں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ان کی استعداد کار میں بھی اضافہ کرناچاہیے۔ اگر ان خطوط پر سنجیدگی سے اور مصمم ارادوں کے ساتھ پیش رفت کی جائے تو ان شاء اللہ، وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایٹمی طاقت کے علاوہ خلاء کی وسعتوں میں بھی اپنا لوہا منوا سکے گا۔

 

:یہ بلاگ اِس سے پہلے ایکسپریس نیوز کی ویب سائٹ پر شائع ہو چکا ہے

https://www.express.pk/story/1291121/464/

Advertisements

کیا اس سال سیلاب آئے گا؟

سنہ2017 کی ایک عالمی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے شدیدمتا ثر ہونے والے  ملکوں میں بنگلہ دیش پہلے  پاکستان     16ویں جبکہ  چین 49 ویں نمبرپر ہے اور ناروے سب سے کم متاثرہ ہونے کی وجہ سے 170 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان ان شدید  موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ   سےسیلاب، خشک سالی، زلزلوں جیسی قدرتی آفات کی زد میں رہتا ہے۔  پاکستان میں سیلاب کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ وفاقی سیلابی ادارے  کی ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے 68 سالوںمیں  سیلاب سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ تقریبا 38 بلین ڈالر ہے   جبکہ اسی رقم سے 3 دیامیر بھاشا ڈیم تعمیر کیے جاسکتے ہیں۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں 1952، 1973، 1976، 1978، 1988، 1992، 1997 اور 2010 کے سیلاب شدید ترین نوعیت کے تھے۔  صرف 2010 کے سیلاب سے 2000 اموات واقع ہوئی  اور 0.16 ملین زرخیز زمین زیر آب آ گئی۔ پاکستان میں کل سیلابی نقصان کا 42 فیصد 210-2015 کے دوران وقوع پزیر ہونے والے سیلابوں  کی کارستانی ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک محتاط اندازے کے مطابق 2010 کے سیلاب میں 18 ملین افراد متاثر ہوئے جس میں آبادی کے لحاظ سے صوبہ سندھ اور اموات کے لحاظ سے  صوبہ خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

Flood 2010

سنہ 2017 میں پاکستان میں مون سون سے سیلاب کے خطرے کی جانچ کیلئے پاکستان کے موسمیاتی ادارے کی 14 جون2017 کو شائع ہونے والی رپورٹ کا جائزہ از حد ضروری ہے۔ اس موسمی پیش گوئی کی رپورٹ کے مطابق   اس سال پاکستان میں مون سون بارشیں جولائی میں نارمل ہوں گی اور اگست اور ستمبر میں یہ نارمل سے بھی کم ہوں گی۔پاکستان کے جنوبی علاقوں میں بارش کی کمی کی وجہ سے خشک سالی کا بھی خطرہ  ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی امکاں ہے کی پہاڑی اور نیم  پہاڑی علاقوں میں سیلابی ریلوں کے خطرات موجود رہیں۔

سیلاب کی صورتحال کی عکاسی کے لیئے  پاکستان میں موجود دریاوں کے خدوخال کی وضاحت ضروری ہے۔ پاکستان میں سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے صرف دو ڈیم  تربیلا اور منگلا ہیں جن میں ایک خاص حد تک پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے،  جبکہ باقی تین دریاوں ستلج، راوی اور چناب پر کوئی پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت میسر نہیں ہے۔ سیلابی پانی سے آبادی کو بچانے کیلئےدریاوں کے ساتھ سیلابی پشتے تعمیر کیے جاتے ہیں اور ان پشتوں کے اندرونی علاقے بیٹ یا کچا کے علاقے کہلاتے ہیں جہان مستقل تعمیرات کی اجازت نہی۔ان علاقوں میں مون سون کے دنوں میں عموماٰ ان علاقوں سیلابی پانی آسانی سے داخل ہو جاتا ہے اور وہاں کے رہائشی اس موسم میں نقل مکانی کے عادی ہیں۔ سیلابی صورتحال اس وقت گھمبیر ہو جاتی ہے جب پانی ان پشتوں سے باہر نقل کر آبادی اور زرخیز زمینوں میں داخل ہوتاہے اور جانی ومالی نقصان کا باعث بنتا ہے۔

اگر چہ محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی کو مد نظر رکھا جائے تو اس سال سیلاب کے امکانات کم ہیں،  تاہم مون سون کے غیر معمولی برتاو کی وجہ سے سیلاب کے خطرہ کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔  اس کی ایک وجہ  یہ  ہے کہ مون سون کی بارشیں کسی ایک وقت میں کم اور دوسرے وقت میں زیادہ ہوں اور بحیثیت مجموعی ان کا    رویہ نارمل ہو۔اسی ضمن میں اگر 2010 کے سیلاب کی صورتحال کو مد نظر رکھا جائے تو مندرجہ ذیل حقیقت واضح ہوتی ہے: جولائی 2010 میں شمالی علاقہ جات میں نارمل سے چار گنا زیادہ بارشیں ہوئیں اور ان بارشوں کی شدت 36 گھنٹوں میں 300 ملی میٹر تک ریکارڈ کی  گئی۔ایک قلیل وقت میں اتنی زیادہ مقدار میں پانی کو سنبھالے کی استعداد  اور سکت ہماری انتظامی مشینری میں نہیں تھی جس کا نتیجہ 2010 کے سیلاب کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اقوام متحدہ نے 2010 کے سیلاب کو  موجودہ تاریخ کا بدترین انسانی بحران قرار دیا اور اس وقت سیکریٹری بان کی مون بذات خود پاکستان میں صورتحال کا جا ئزہ لینےکیلئے تشریف لائے۔ موجودہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ کی قیادت میں2010 میں بننے والے سیلابی کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سیلاب سے نمٹنے کیلے متعلقہ محکموں کےپاس  نہ ہی درکار استعداد تھی اور  نہ ہی منظم فیصلہ سازی کی صلاحیت تھی۔ اس کے علاوہ   سرکاری اہل کاروں  کی غفلت اور سیلابی پشتوں کی  غیر مناسب دیکھ بھال اور تعمیر میں ناقص مواد کا استعمال بڑی تباہی کا باعث بنے۔

سیلاب سے نمٹنے کیلے ضروری ہے  ملک میں نئے ڈیم تعمیر کیے جائیں، اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے، سیلابی پشتوں کی مناسب دیکھ بھال کا  شفاف نظام وضع کیا جائے اور جدید مہارتوں کے استعمال سے نقصانات کو کم سے کم سطح پر لایا جائے۔

اراضی کی معلومات کی کمپیوٹرائزیشن۔حقیقی منزل ابھی دور ہے۔

abcd

مارچ2016 کے اوائل میں وزیر اعلی پنجاب نے اراضی معلومات کی کمپیوٹرائزیشن کی کامیاب تکمیل کا عندیہ دیا ہے، جبکہ میری محدود تحقیق کے مطابق یہ پروگرام محکمہ مال میں ناگزیر اصلاحلات کے نصف احداف بھی حاصل نہیں کر سکا ہے۔
دنیا بھر میں صدیوں سے رائج اصولوں کے مطابق زمین کی ملکئیت کا انتظام و انصرام اعداد و شمار کے رجسٹراور زمینی سروے کی مدد سے تیار کیے جانے والے نقشوں پر مشتمل ہوتا ہے۔انگریز سرکار نے تقریبا 200 سال پہلے برصغیر میں زمین کی ملکئیت کیلئے یہی نظام رائج کیا اور اس کے ساتھ ساتھ قانون سازی اور انتظامی ڈھانچہ بھی فراہم کیا۔ حالانکہ اس اصلاح کا مقصد انگریز سرکار کیلئے زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کرنا تھا لیکن برصغیر کے عوام کو ان اصلاحات سے نہ صرف ملکئیتی حقوق مل گئے بلکہ ملکئیتی جھگڑوں کے حل کے لئے ایک نظام بھی میسر آ گیا۔انگریز دور کا لاگو شدہ کمشنری نظام آج بھی نافذلعمل ہے۔اس نظام کے تحت زمینی ملکئیت کے اعداد وشمار کے لئے دو درجن رجسٹر تھے جن میں مالک کے ذاتی کو۱ئف، فصلات کی تفصیل،کل رقبہ،بیعانہ اور ذرائع آبپاشی جیسی معلومات درج ہوتی۔اس کے ساتھ ساتھ زمین پر پیمائش کے ذریعے کھیت کا رقبہ اور اس کے اطراف کی معلومات کو نقشہ کے ذریعے ظاہر کی جاتا تھا۔انگریز نے جب برصغیر پر قبضہ کیا توانہوں اس کے اصل رقبہ کی جانچ کے لئے عظیم مثلثی سروے کا اہتمام کیا۔ اس سروے میں ریاضی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے برصغیر کی ماہیئت کا درست اندازہ لگایا گیا۔اس سروے کی تکمیل تقریبا 77 سال میں ہوئی۔ انیسویں صدی کے نصف تک انگریز سرکار کی آمدنی کا 60 فیصد زمین سے حاصل شدہ محصولات سے تھا۔
تقسیم برصغیر کے بعد پاکستان کو انگریز کا یہ نظام ورثے میں ملا جو کہ آج تک معمولی تبدیلیوں کے ساتھ رائج ہے۔ماضی قریب میں جائزہ کا کوئی موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے زمین کی خرید و فروخت سے متعلق کوئی بھی کام بغیر رشوت نا ممکن بات تھی۔ پٹواری اس نظام کی بنیادی اکائی تھا جو سرکاری ریکارڈ کواپنی نجی تحویل میں رکھتا اوراور اس سے خاطر خواہ فوائد حاصل کرتا۔ورلڈ بنک نے 2006 میں اپنی رپورٹ میں اس نظام کو نہایت فرسودہ،ناقابل رسائی،کمزور،منتشر، اور غیر موثر قرار دیا تھا۔2013 میں کی گئی ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق اس نظام سے وابسطہ 90 فیصد افراد اس میں اصلاح چاہتے ہیں۔
حکومت پنجاب نے میں میں ورلڈ بنک کے تعاون سے اراضی کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل شروع کیا جو کہ 2016 میں پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔اس کمپیوٹرائزیشن کے عمل سے اعداد و شمار کے رجسٹرز کے تقریبا 1 کروڑ صفحات کی کمپیوٹرائزیشن کی گئی ہے جس کی وجہ سے مواضعات میں موجود ساڑھے پانچ کروڑ زمین مالکان کا ریکارڈ کمپیوٹرمیں محفوظ ہو گیا ہے۔جبکہ اس نظام کا دوسرا حصہ جو نقشہ سازی پر مشتمل ہے ابھی بھی قابل توجہ ہے۔اراضی کی کمپیوٹرائزیشن کیلئے کاغذوں پر درج تمام ریکارڈ کو کمپیوٹر میں محفوظ کر دیا گیا ہے اور اس میں موجود اغلاط کی درستگی موجودہ کرپٹ نظام سے کرائی گئی ہے۔اب زمین سے متعلق معلومات کے لئے پٹواری کے نجی دفتر کے بجائے جدید کمپیوٹرز سے لیس پنجاب کی تمام 143 تحصیلوں میں اراضی ریکارڈ سینٹر بنا دیے گئے ہیں جہاں ایک چھت کے نیچے زمین کے معاملات تک رسائی ممکن ہو گئی ہے۔
میرے نسٹ یونیورسٹی کے لئے کیے گئے تحقیقی مقالے میں دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں، تحقیقی مقالے کا بنیادی مقصد زمینی ملکیت کی جانچ کے لئے مربوط جغرافیائی نظام کا استعمال تھا۔ موضع چک نمبر154۔ایم ایل،تحصیل کوٹ ادو، ضلع مظفرگڑھ میں جب اعداد و شمار کے رجسٹر کا تقابلی جائزہ مربوط جغرافیائی نظام سے بنائے گئے نقشوں سے کیا گیا تو 8 ایکڑ زمین کاغذوں میں موجود تھی جبکہ زمین پر اس کا کوئی وجود نھیں تھا۔پنجاب کے تین اضلاع میں جدید نقشہ سازی کا تجربہ بھی کیا گیا ہے جو کہ اغلاط سے بھرپور ہے اور اس میں تکنیکی مہارتوں کا بھی فقدان پایا گیا ہے۔
پنجاب حکومت نے اب تک صرف اعداد وشمار کو کمپیوٹرائز کیا ہے جبکہ خلائی سیاروں سے زمینی سروے اور نقشہ سازی کا کام ابھی پایہ تکمیل ہونا ہے جس سے زمینی حقائق سامنے آئیں گے اورا غلاط کی صحیح معنوں میں درستگی اور ناجائز قابضین کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔حقیقت میں اراضی کی معلومات کے نظام کی تکمیل ابھی دور ہے۔ہاں شاید وزیر اعلی پنجاب یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کے محکمہ مال میں پٹواراور کرپٹ کلچر کا کسی حد تک خاتمہ اس نظام سے ممکن ہو سکے گا۔

This is a guest post in Urdu by Sheraz Ahsan.