Author Archives: Muhammad Sheraz Ahsan

About Muhammad Sheraz Ahsan

M. Sheraz Ahsan has more than 10 years of geospatial industry experience. He is graduate of NUST and University of the Punjab. He is fellow of Royal Geographical Society, London, UK. He is member of Pak-NSDI working group and OSGeo (Pakistan Chapter). He is serving as visiting faculty member of PMAS-AAUR and IST. His research interest include RS/GIS application in resourc planning and management. He is actively promoting the geospatial education and industry in Pakistan

اراضی کی معلومات کی کمپیوٹرائزیشن۔حقیقی منزل ابھی دور ہے۔

abcd

مارچ2016 کے اوائل میں وزیر اعلی پنجاب نے اراضی معلومات کی کمپیوٹرائزیشن کی کامیاب تکمیل کا عندیہ دیا ہے، جبکہ میری محدود تحقیق کے مطابق یہ پروگرام محکمہ مال میں ناگزیر اصلاحلات کے نصف احداف بھی حاصل نہیں کر سکا ہے۔
دنیا بھر میں صدیوں سے رائج اصولوں کے مطابق زمین کی ملکئیت کا انتظام و انصرام اعداد و شمار کے رجسٹراور زمینی سروے کی مدد سے تیار کیے جانے والے نقشوں پر مشتمل ہوتا ہے۔انگریز سرکار نے تقریبا 200 سال پہلے برصغیر میں زمین کی ملکئیت کیلئے یہی نظام رائج کیا اور اس کے ساتھ ساتھ قانون سازی اور انتظامی ڈھانچہ بھی فراہم کیا۔ حالانکہ اس اصلاح کا مقصد انگریز سرکار کیلئے زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کرنا تھا لیکن برصغیر کے عوام کو ان اصلاحات سے نہ صرف ملکئیتی حقوق مل گئے بلکہ ملکئیتی جھگڑوں کے حل کے لئے ایک نظام بھی میسر آ گیا۔انگریز دور کا لاگو شدہ کمشنری نظام آج بھی نافذلعمل ہے۔اس نظام کے تحت زمینی ملکئیت کے اعداد وشمار کے لئے دو درجن رجسٹر تھے جن میں مالک کے ذاتی کو۱ئف، فصلات کی تفصیل،کل رقبہ،بیعانہ اور ذرائع آبپاشی جیسی معلومات درج ہوتی۔اس کے ساتھ ساتھ زمین پر پیمائش کے ذریعے کھیت کا رقبہ اور اس کے اطراف کی معلومات کو نقشہ کے ذریعے ظاہر کی جاتا تھا۔انگریز نے جب برصغیر پر قبضہ کیا توانہوں اس کے اصل رقبہ کی جانچ کے لئے عظیم مثلثی سروے کا اہتمام کیا۔ اس سروے میں ریاضی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے برصغیر کی ماہیئت کا درست اندازہ لگایا گیا۔اس سروے کی تکمیل تقریبا 77 سال میں ہوئی۔ انیسویں صدی کے نصف تک انگریز سرکار کی آمدنی کا 60 فیصد زمین سے حاصل شدہ محصولات سے تھا۔
تقسیم برصغیر کے بعد پاکستان کو انگریز کا یہ نظام ورثے میں ملا جو کہ آج تک معمولی تبدیلیوں کے ساتھ رائج ہے۔ماضی قریب میں جائزہ کا کوئی موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے زمین کی خرید و فروخت سے متعلق کوئی بھی کام بغیر رشوت نا ممکن بات تھی۔ پٹواری اس نظام کی بنیادی اکائی تھا جو سرکاری ریکارڈ کواپنی نجی تحویل میں رکھتا اوراور اس سے خاطر خواہ فوائد حاصل کرتا۔ورلڈ بنک نے 2006 میں اپنی رپورٹ میں اس نظام کو نہایت فرسودہ،ناقابل رسائی،کمزور،منتشر، اور غیر موثر قرار دیا تھا۔2013 میں کی گئی ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق اس نظام سے وابسطہ 90 فیصد افراد اس میں اصلاح چاہتے ہیں۔
حکومت پنجاب نے میں میں ورلڈ بنک کے تعاون سے اراضی کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل شروع کیا جو کہ 2016 میں پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔اس کمپیوٹرائزیشن کے عمل سے اعداد و شمار کے رجسٹرز کے تقریبا 1 کروڑ صفحات کی کمپیوٹرائزیشن کی گئی ہے جس کی وجہ سے مواضعات میں موجود ساڑھے پانچ کروڑ زمین مالکان کا ریکارڈ کمپیوٹرمیں محفوظ ہو گیا ہے۔جبکہ اس نظام کا دوسرا حصہ جو نقشہ سازی پر مشتمل ہے ابھی بھی قابل توجہ ہے۔اراضی کی کمپیوٹرائزیشن کیلئے کاغذوں پر درج تمام ریکارڈ کو کمپیوٹر میں محفوظ کر دیا گیا ہے اور اس میں موجود اغلاط کی درستگی موجودہ کرپٹ نظام سے کرائی گئی ہے۔اب زمین سے متعلق معلومات کے لئے پٹواری کے نجی دفتر کے بجائے جدید کمپیوٹرز سے لیس پنجاب کی تمام 143 تحصیلوں میں اراضی ریکارڈ سینٹر بنا دیے گئے ہیں جہاں ایک چھت کے نیچے زمین کے معاملات تک رسائی ممکن ہو گئی ہے۔
میرے نسٹ یونیورسٹی کے لئے کیے گئے تحقیقی مقالے میں دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں، تحقیقی مقالے کا بنیادی مقصد زمینی ملکیت کی جانچ کے لئے مربوط جغرافیائی نظام کا استعمال تھا۔ موضع چک نمبر154۔ایم ایل،تحصیل کوٹ ادو، ضلع مظفرگڑھ میں جب اعداد و شمار کے رجسٹر کا تقابلی جائزہ مربوط جغرافیائی نظام سے بنائے گئے نقشوں سے کیا گیا تو 8 ایکڑ زمین کاغذوں میں موجود تھی جبکہ زمین پر اس کا کوئی وجود نھیں تھا۔پنجاب کے تین اضلاع میں جدید نقشہ سازی کا تجربہ بھی کیا گیا ہے جو کہ اغلاط سے بھرپور ہے اور اس میں تکنیکی مہارتوں کا بھی فقدان پایا گیا ہے۔
پنجاب حکومت نے اب تک صرف اعداد وشمار کو کمپیوٹرائز کیا ہے جبکہ خلائی سیاروں سے زمینی سروے اور نقشہ سازی کا کام ابھی پایہ تکمیل ہونا ہے جس سے زمینی حقائق سامنے آئیں گے اورا غلاط کی صحیح معنوں میں درستگی اور ناجائز قابضین کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔حقیقت میں اراضی کی معلومات کے نظام کی تکمیل ابھی دور ہے۔ہاں شاید وزیر اعلی پنجاب یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کے محکمہ مال میں پٹواراور کرپٹ کلچر کا کسی حد تک خاتمہ اس نظام سے ممکن ہو سکے گا۔

This is a guest post in Urdu by Sheraz Ahsan.